اللہ کا حق بندوں پر

اللہ اکبر،سبحان اللہ،الحمداللہ،استغفراللہ

۱۔اللہ کا پہلا حق اس کو واحد اور لا شریک ماننا زات میں اکیلا صفات میں اکیلا،اسکی اتھارٹی میں کوئی شریک نہیں ہو سکتا۔عیسائیوں نے اسکی ذات میں اسکا بیٹا بنا کراس میں شرک کیا،ہندوں اور بت پرستوں نے بتوں کو اللہ کی اتھارٹی میں شامل کرلیا

۲۔اسکی بے نیازی ہے ہمارا گمان کبھی بھی یہ نہیں ہونا چاہیے کے میرے نیک ہونے سے اللہ کو کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے یا میرے بد ہونے سے اللہ کو کوئی نقصان ہو سکتا ہے،کوئی مخلوق اللہ کا فائدہ یا نقصان کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی،اللہ مخلوق کی طرف سے مکمل طور پر بے نیاز ہے۔ کھانے پینے سونے آرام کرنے اولاد پیدا کرنے ہر چیز سے بے نیاز ہے اسلئے اللہ کا حق یہ ہے ہم کتنی ہی بھلائی کریں کتنی ہی برائی کریں اس سے اللہ کا سنورتا،بگڑتا نہیں ہےاسکے تمام احکام جو ہم پر لاگو ہوتے ہیں وہ ہمارے ہی فائدے اور بہتری کیلئے ہیں۔

۳۔نہ اس نے کسی کو جنا اور نہ کسی نے اسکو جنا یہ بات خود مالک کہتا ہے،چونکہ مشرکین کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ انہوں نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیا اور کچھ پیغمبروں کو بھی اللہ کی اولاد قرار دیا ہم پر یہ حق ہے اللہ کا نہ اللہ کو کسی نے جنا اور نہ وہ کسی کو جنتا ہے۔

۴۔اس کائنات کا بلکہ تمام عالمین کا بلا شرکت غیرے واحد مالک اللہ ہے،اللہ اگر نہ چاہے تو کسی کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہے ایمان نیکی ہدایت تقوی بزرگی علم ولایت صحت دولت عزت شہرت اولاد حکومت فتوحات جسکو چاہے دے اور جس سے چاہے چھین لے،یہ سب کچھ اللہ کی حکومت کا حصہ ہے کائنات کی تقسیر کا کام سائنسی ایجادات اور اسکا فہم سب اللہ ہی کی طرف سے ہے اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں اللہ کا یہ حق ہے ہم پر ہم اس کو اسی طرح مانیں ۔

۵۔روزالست اللہ نے تمام ارواح سے وعدہ لے لیا کہ میں ہی تمہارا رب ہوں اور میں ہی تمہارا پالنے والا ہوں کوئی اڑنے والا چلنے والا رینگنے والا تیرنے والا جاندار ایسا نہیں جسکا رزق میرے ذمے نہ ہو ہم پر اللہ کا یہ حق ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی کی ربوبیت کو تسلیم نہ کریں اور اپنے سارے معاملات میں اللہ ہی سے مدد طلب کریں

۶۔لاالہ اللہ ۔نہیں کوئی الہ اللہ کےسوا صرف ایک اللہ کی عبادت کریں اور اسی کے اگے سر جھکائیں کسی اور کو الہ تسلیم نہ کریں،رسول اللہ ﷺ ایک بار اونٹ پر تشریف لے جا رہے تھے پیچھے معاز بن جبل رضی اللہ تعالی بیٹھے تھے اپ نے فرمایا معاز کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا بندوں پر کیا حق ہے تو معاز بولے اللہ اور اسکا رسول ہی بہتر جانتے ہیں تو آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ بندے اللہ ہی کی عبادت کریں اسکے علاوہ کسی کے حضور سر نہ جھکائیں،پھر دوبارہ آپﷺ نے فرمایا کہ معاز کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے،پھر صحابی رسول گویا ہوے کہ اللہ اور اسکا رسول ہی بہتر جانتے ہیں آپﷺ نے فرمایا بندوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جب وہ اسی کی عبادت کریں اور کسی کو اسکا شریک نہ ٹھہرایں تو انکو ہرگز عزاب نہ کرے۔

۷۔اللہ جب چاہے جو چاہے جیسا چاہے جتنا چاہے جسکے ساتھ چاہے کرم کر سکتا ہے کوئی اسکو روکنے والا نہیں وہ اپنی مرضی کا مالک و مختار ہے سارے اسباب اللہ کی جانب سے ہیں وہ مسبب اسباب ہے ایسا ہی اسکو ماننے کا حق ہے۔