رسول اللہ ﷺ کے حقوق بندوں پر

اللہ اکبر،سبحان اللہ،الحمداللہ،استغفراللہ

۱۔محمد رسول اللہ ﷺ نہ فرشتےہیں نہ جنات میں سے نہ جادو گر ہیں نہ مجنون بلکہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں،اس طرح رسول اللہ کوماننا ان کا ہم پر پہلا حق ہے۔اپ احسن تقویم ہیں اور خلق میں اعلی ترین ہیں۔

۲۔رسول اللہ ﷺ سلسہ نبوت و رسالت کے ختم کرنے والے ہیں خاتم النبین ہیں ،اپ کے بعد کوئی نبی اور کوئی رسول نہ ہے۔یہاں ایک سوال پیدا ہو تا ہے،جہاں عیسی علیہ الصلوۃ وسلام اللہ کے رسول ہیں جنکو اللہ نے اسمانوں پر اٹھا لیا،احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ بات بیان ہوئی کے عیسی علیہ الصلوۃ وسلام شام کی ایک مسجد میں فجر کے وقت آسمان سے اتریں گے اُس وقت امام مہندی نماز کی امامت فرما رہے ہوں گےعیسی علیہ الصلوۃ وسلام اُنکے پیچھے نماز ادا فرمائیں گے یہ بندوبست اسلئے کیا گیا کہ بات سب کے علم میں اجائے کہ عیسی علیہ الصلوۃ وسلام اپنی شریعت لے کر نہیں آئیں گے بلکہ رسول اللہ کی شریعت پر عمل پیرا ہونگے۔اور پھر قرآن کریم بھی یہ کہنا ہے کہ ہم نے تمھارے لئے دین اسلام کو پسند فرمایا اور دین کو مکمل کردیا۔ اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ آپ کے بعد سلسلہ نبوت ﷺ کو ختم کردیا گیا،ہم پر یہ حق ہے آپ کا کہ ہم اپکو خاتم النبین مانیں۔

۳۔ہمیں سب پیغمبروں کو ماننا ہے تمام اسمانی صحیفوں اور کتابوں پر ایمان لانا ہے مگر ہمارے لئے ایمان اور عمل اللہ کے رسول کی لائی ہوئی کتاب اور شریعت ہی ہے۔ یعنی ہمیں ہرحال میں شریعت محمدی پر ہی چلنا ہے۔

۴۔جو کچھ رسول اللہ ﷺ دیں اُس کو لینا ہے اور جس سے روک دیں اس سے ہر حال میں رک جانا ہے۔

۵۔جب اللہ کے رسول ﷺ کوئی حکم خود لاگو کردیں یا کسی معاملہ میں کوئی فیصلہ فرما دیں تو ہمیں اُس سے ہر گز اختلاف نہیں کرنا اپنے دل میں اُس فیصلے کے خلاف کوئی قدورت نہیں رکھنی اور آپکے صادر شدہ حکم کو دل وجان سے قبول کرتے ہوے اُس پر عمل کرنا ہے۔

۶۔جب تک ہمیں رسول اللہ ﷺ جان و مال اولاد، ناموس سے بڑھ کر پیارے نہ ہوجائیں ہمارا ایمان مکمل نہیں ہوتا اور اللہ کے رسول کا ہمارے جانوں مالوں اور اولاد پر حق ہے۔

۷۔رسول اللہ ﷺ کا ہم پر حق ہے کہ ہم اپنی آوازوں کو رسول اللہ کی آوازوں سے اونچا نہ کریں۔آج کے دور میں اس کا تعلق صوتی آواز سے نہیں ہے بلکہ آپ کے لائے ہوئے پیغام ،آپ کی سنتوں، اور آپ ﷺ کے افکار اور آپ ﷺ کے اقوال سے ہے کسی قیمت پر بھی کسی اقوال رسول کی، فعل رسول پر نہ تنقید کرنی ہے نہ اختلاف راَئے رکھنا ہے نہ تمسخر آڑاناہے۔

۸۔اگر آپ ﷺ کی ناموس ہمارے نزدیک ہماری مال، جان، اولاد، ناموس سے بڑھ کر قابل احترام نہ ہوجائے تو ہم بہت بڑے حق سے محروم ہو جاتے ہیں۔

۹۔رسول اللہ ﷺ کا ہم پر یہ حق ہے کہ آپ کی ناموس کو ہم ہر چیز سے پر مقدم رکھیں۔

۱۰۔قرآن حکیم میں رب العزت نے یہ حق بھی ہمیں بتلا دیا کہ تمہیں بر حال رسول اللہ کی پیروی کرنی ہے۔

۱۱۔رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات امت کی مائیں ہیں اور ہر مسلمان کو انہیں اپنی ماں سے بڑھ کر ماں سمجھنا ہے اور احترام کرنا ہے۔

۱۲۔اللہ نے رسول اللہ ﷺ کا یہ حق بھی ہم پر فائز کیا ہے کہ ہم باکثرت آپ پر درود سلام بھیجتے رھیں۔

۱۳۔رسول اللہ ﷺ کا ہم پر یہ بھی حق ہے کہ ہم اپکو مقام محمود پر فائز اور شفاعت کروانے والا تسلیم کریں اور یہ امید رکھیں کہ آپ ہماری شفاعت فرمائیں گے۔

۱۴۔آپ ﷺ کو کامل واکمل ماننا بھی اپ کا ہم پر حق ہے،اکمل اسلئے کہ دین آپﷺ پر مکمل کیا گیا اور کامل اسلئے کہ آپﷺ نے تمام اعلی اخلاق اور کمالات کو اللہ کی کمال فرما برداری کے ساتھ پورا کیا۔

۱۵۔جتنے علوم اور معجزات دیگر انبیاء ورسولوں کو عطا کیے گئے وہ تمام کے تمام آپ ﷺ کی ذات گرامی میں مجتمع کیے گئے۔

۱۶۔جب ہم میں کسی کے سامنے رسول اللہ ﷺ کا نام لیا جاے تو سننے والا شخص اگر آپ پے درودوسلام نہ بھیجے تو بخیل تصور ہوگا،آپ ﷺ کا حق ہے ہم پر کہ جیسے ہی آپ ﷺ کا نام مبارک ہمارے کان میں پڑے تو ہم آپ پر درود بھیجیں۔

۱۷۔جب کوئی شخص حج وعمرہ کوجائے تو رسول اللہ ﷺ کا اس پریہ حق ہے کہ وہ آپ ﷺ کا روزہ اور مسجد کی زیارت کو بھی جائے،جو ایسا نہ کرےگا وہ بھی بخیل تصور ہوگا اور اللہ کسی بخیل کو دوست نہیں رکھتا۔

۱۸۔آپ ﷺ کا حق ہے ہم پر کہ ہم اپنی اولادوں کے نام آپ کے نام پر رکھیں لیکن ہرگز بھی آپ کی کنیت ابوالقاسم نہ رکھیں۔

۱۹۔رسول اللہ ﷺ کا ہم پر یہ حق ہے کہ ہم آپ کو غلطیوں کوتاہیوں اور گناہ سے مبرا اور آزاد مانیں اور معصوم تسلیم کریں۔

۲۰۔ہم پر آپ ﷺ کا یہ حق ہے کہ آپ کو حق مانا جائےاور باطل کی نفی کی جائے، جیسا کے فتح مکہ کے موقع پر آپ ﷺ اپنے عصا مبارک سے بتوں کو گرا رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور وہ حق رسول اللہ ﷺ ہی ہیں۔

۲۱۔عام بندوں کے علاوہ انبیاء اور رسولوں پر بھی آپ ﷺ کا یہ حق ہے کہ آپ ﷺ کی رسالت کی تصدیق کریں اور اُن پر ایمان لائیں اسی لئے ہر نبی نے آپ ﷺ کے آنے کی تصدیق فرمائی۔